مردانہ کمزروی کے علاج کیلئے نیلی روشنی کا استعمال
سوئٹزر لینڈ کے سائنسدانوں نے مہنگی اور مضر صحت
ادویات کی بجائے نیلی روشنی کی مدد سے مردانہ کمزوری کا بہترین علاج دریافت
کرنے کا دعویٰ کردیا ہے۔
پروفیسر مارٹن فسینجر کی قیادت میں کی گئی تحقیق کے مطابق جسم کے متعلقہ
حصے میں مصنوعی ڈی این اے داخل کیا جائے گا اور اس کے بعد مذکورہ حصہ پر
جب بھی نیلی روشنی پڑے گی تو اس میں ازخود تناﺅ پیدا ہوجائے گا۔ سائنسدانوں
کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ مردانہ کمزوری کی ادویات سے اس لحاظ سے بھی بہتر
ہے کہ اس کے ذریعے کسی بھی وقت نیلی روشنی استعمال کرتے ہوئے مطلوبہ نتائج
حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس عمل میں نیلی روشنی ایک ’آن سوئچ‘ کا کام کرتی
ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم میں داخل کئے گئے مصنوعی ڈی این اے پر جب بھی
نیلی روشنی پڑے گی تو یہ کیلشیم چینلز کو بند کرکے مطلوبہ حصے میں خون کی
گردش بڑھا دے گا جس کے نتیجے میں حسب ضرورت عرصے کے لئے تناﺅ کی کیفیت
برقرار رہے گی۔ ماہرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ موجودہ ادویات کے برعکس اس
طریقہ کے کوئی سائیڈ افیکٹ بھی نہیں ہیں۔ نیلی روشنی کے طریقہ کو ایک
معیاری طریقہ علاج کے طور پر متعارف کروانے کے لئے تحقیقی کام تاحال جاری
ہے۔